Tuesday, 28 February 2017


ایک یادگار سفر
محمد سعود شیخ
2k14/MC/63

یہ انسانی نفسیات ہے کہ اسے اس کائنات میں قدرت کی تخلیق کردہ چیزوں کو سمجھنے اور دیکھنے کا شوق ہوتا ہے اور اس فطرت اور خواہش کو پورا کر نے کے لئے یہ اکثر اوقات ان جگہوں کا رخ کرتا ہے جو قدرتی حسن سے بھرپور ہے کیونکہ اس روز مرہ زندگی اور انسانی تخلیق کردہ ماحول سے جب انسان تھک جاتا ہے تو ماحول میں تبدیلی کی خواہش کرتا ہے ۔

اسی فطرت اور خواہش کو محسوس کرتے ہوئے گذشتہ سال کی ابتداء میں میں نے بھی روز مرہ زندگی اور ماحول میں کچھ تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا صوبہ سندھ میں رہنے کی بدولت اس کے تو کچھ قدیمی شہر اور مقامات میں دیکھ چکا تھا تو ایسے میں میں نے صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختون خواہ کا رخ کیا دوسروں کی زبانی اور کیمرے کی آنکھ سے تو ان صوبوں کے مختلف مقامات سنے اور دیکھے تھے لیکن اب وہاں جانے کا فیصلہ کیا میں نے اپنے سفر کا آغاز حیدرآباد ریلوے اسٹیشن سے کیا جس میں میرا شریکِ سفر میرا کزن تھا جو خود تفریح کا شوقین تھا اور پہلے کئی مرتبہ ان صوبوں کو دیکھ چکا تھا جس کے باعث وہ میرے لئے ایک اچھا گائیڈ اور خاص طور پر فوٹوگرافر بھی رہا ۔

ہماری منزل حیدرآباد کے بعد راولپنڈی تھی جو سفر ہم نے بذریعہ تیزگام کیایہ اندر سے انتہائی صاف ستھری اور کشادہ تھی یہ میری زندگی کاایک طویل سفر تھاجو ساڑھے چھ بجے حیدرآباد ریلوے اسٹیشن سے شروع ہوااور صبح ساڑھے ساتھ بجے فیصل آباد ریلوے اسٹیشن پر ختم ہوا۔اسٹیشن پر رک کر ہم نے ناشتہ کیایہاں خاصی ٹھنڈ محسوس ہورہی تھی ہم نے آگے سفر کر نا تھا اسٹیشن انکواری سے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ اگلی ٹرین عوامی ایکسپریس ہے جو راولپنڈی جائے گی عوامی کا نام سن کر میرے دل میں ذرا کھٹکا ہو الیکن غنیمت جان کر اسی میں سفر کرنے کا ارادہ کیالیکن عوامی نے چلتے ہی پاکستان ریلوے کی حقیقت وضع کرنا شروع کردی ۔ 

تیز گام میں سفر کرنے کے بعد عوامی میں سفر کرنا زندگی کا بدترین تجربہ تھا۔سیٹیں جگہ جگہ سے اکھڑی ہوئی انتہائی شور اور سخت بدبو کے ساتھ بے تہاشہ رش نے سفر کو اجیرن کردیا تھااس کے ساتھ ساتھ عوامی کی دریا دلی دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا تھاجس کی وجہ دورانِ سفر سامنے آنے والی ٹرینوں کا انتظار اور انہیں جانے کی جگہ دینا تھاجس کی باعث پانچ گھنٹے کا یہ سفر گیارہ گھنٹے پر مشتمل ہوگیا۔

راولپنڈی پہنچ کر ہم نے رات ہوٹل میں قیام کیا صبح ہم نے ناشتہ کیااور اسلام آباد کا بذریعہ ٹیکسی رخ کیااسلا م آباد کی سڑکیں خاصی کشادہ تھیں جس کے ارد گرد ہریالی ہی ہریالی تھی یہاں پہلے ہم نے مشہور و معروف مسجد فیصل مسجد کا رخ کیاجو ایک وسیع و عریض رقبے پر محیط ہے جس کے چاروں اطراف اونچے اونچے پہاڑاس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں اس خوبصورت مسجد کو دیکھنے کے بعد ہم لوگ لوک ورثہ عجائب گھر گئے جہاں بہترین آرٹ دیکھنے کو ملی یہاں زیادہ تر پرانی تہذیب ،رہن سہن اور پاکستان کے لوگوں کے مختلف کلچر کو مختلف صورتوں میں پیش کیا گیا تھا۔یہاں سورج ڈھلنے لگا تو ہم نے دوبارہ اپنی ہوٹل کا رخ کیا جس کے بعد ہماری دوسری منزل سوات تھی جس کے لئے ہم نے راولپنڈی سے بس میں سوات تک کا سفر طے کیا یہ راستہ قدرتی مناظر سے بھر پور اور خاصا راستہ پر خطر بھی تھاجو پہاڑوں کے درمیان سے ہوتا ہوا سوات تک جاتا تھااکثر اوقات پتلے راستے کے ایک جانب کھائی بھی موجود ہوتی تھی البتہ یہ سفر7گھنٹے میں مکمل ہوا ۔

جس کے بعد رات ہم نے ہو ٹل میں قیام کیااور صبح سوات شہر گھومنے نکل گئے سوات کے لوگ زیادہ تر مذہبی ذہن رکھتے ہیں اور ان کا لباس شلوار قمیض ہو تا ہے اور زیادہ تر سر پر ٹوپی ہوتی ہے عورتیں عام روڈ اور بازاروں میں دیکھنے میں کم آتی ہیں لیکن یہاں عورتوں کا لباس مکمل پردہ ہوتا ہے جو سر سے لیکر پاؤوں تک ڈھکا ہوا ہوتا ہے۔یہاں کے لوگ بہت پیدل چلتے ہیں اور نہایت تندرست بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ صاف ماحول اور صحت مند غذائیں ہیں اور یہاں کے لوگ لکڑی کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔

سوات میں موجود اونچے اونچے پہاڑوں کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے اس کے علا وہ یہاں سیاحوں کے لئے یہاں کے لوگوں نے مختلف پوانٹ بنا رکھے ہیں جہاں کا رخ ہم نے بھی کیا جن میں سے ایک جگہ مالم جبہ بھی ہے جہاں پہاڑوں پر جمی ہوئی برف ایک خوبصورت منظر پیش کرتی ہے اس کے علا وہ اور بھی دوسر ے مقامات جیسے ناران کاغان کی ہم نے سیر کی یہ مقامات بھی اپنی مثال آپ ہیں اور یہ دل افروز مناظر انسان کو ذہنی سکون کے ساتھ ساتھ دلی سکون بھی پہنچاتے ہیں یہ میری زندگی کا ایک بہترین سفر تھا جس کے باعث قدرت کے تخلیق کردہ مناظر کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا آٹھ دن کے اس کے سفر کے بعد میں نے 
اپنے گھر کی راہ لی۔


تکلیف دہ سفر
محمد راحیل
2k14/MC/68

انسان کی زندگی میں کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جو بھلائے نہیں بھولے جاتے مگر کچھ سفر ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان اپنے لیئے نہیں بلکہ دوسروں کے لیئے کرتا ہے ایسا ہی میرا ایک گذشتہ دنوں کا جو سفر ہے وہ ایسا دردناک کہانی پر مبنی ہے جو میں آج اپنی تحریر میں آپ کی نظر کر رہا ہوں۔

کچھ روز قبل ایک پیش آنے والا واقعہ جس نے پوری پاکستانی قوم کو رولا کر رکھ دیا16فروری کی شام پورے پاکستان کے لئے ہی دردناک تھی جب دہشت گردوں نے حٖضرت عثمان شاہ مروندی(لال شہباز قلندر) کے مزار کو خون میں نہلا دیا تھاجمعرات کی شام لال شہباز قلندر کے مزار پر معمول کے مطابق دھمال جاری تھاتو اس وقت سوفیوں کی سر زمین کو لہو لوہان کر دیااس دہشت گردی کہ کاروائی میں کئی لوگ جام شہادت نوش کر چکے تھے تو وہیں ان سے چار گنا ہ زیادہ زخمی موجود تھے جو اپنی زندگی کے دردناک لمحات سے گزر رہے تھے۔

حیدرآباد سے سہون کا سفر تقریبا 135کلو میٹر کا ہے جیسے ہی ہمارے پاس یہ اطلا ع آئی کہ سہون کے زخمیوں کو طبی معائنہ اور خون کی اشد ضرورت ہے میں اور میرے چار دوستوں نے فوری طور پر سہون پہچنے کافیصلہ کیا135کلومیٹر کا سفر طے کر نے میں ویسے توڈیڑھ سے دو گھنٹے لگتے ہیں مگر اس وقت یہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے کا سفر دنوں کی مانند گزر رہے تھے راستے میں ٹریفک جام تھااور شام ڈھلنے کے بعد روشنی کا سڑک پر کوئی خاطر خواہ انتظام بھی موجود نہیں تھامگر لوگوں کا درد ذہن میں رکھ کر ہم نے سہون کے قریبی علا قے (لکی شاہ صدر) میں اپنے دوست کے گھر پر گاڑی کو پارک کیااور وہاں سے سہون کا سفر پیدل طے کرنے کا سوچاکیونکہ روڈ پر ٹریفک جام تھااور لوگ افرا تفری کے عالم میں ادر سے ادھر بھاگ رہے تھے جہاں ہم نے اپنی گاڑی کھڑی کی تھی وہاں سے سہون کی درگاہ کم وبیش 25سے30کلو میٹر دور تھی اور یہ سفر ہم اگر گاڑی میں طے کرتے تو ہمیں کافی دیر لگ جاتی تو ہم نے وہاں سے کچے کے راستے پیدل سہون پہچنے کا ذہن بنایاوہاں سے پیدل سہون پہچنے میں دو گھنٹے سے زائد کا وقت لگااور وہاں پہنچ کر ہماری آنکھوں نے جو مناظر دیکھے وہ میں اپنی تحریر میں آپ کی نظر نہیں کر سکتاکیونکہ وہ لوگوں کی دردناک چینخیں اور سفید سنگ مر مر سے بنا ہوا مزارخون میں لت پت تھا نہ تو مجھ میں وہ منظر بیان کرنے کا حوٖصلہ موجود ہے اور نہ ہی پڑھنے والے میں اتنی ہمت ہوگی کہ وہ انسانیت کی تذلیل کو پڑھ سکے۔۔۔۔!


دوستوں کے ساتھ سفر
محمد بلال حسین صدیقی
2k14/MC/57

سیمسٹر سے فارغ ہوئے تو دوستوں کے ساتھ گھومنے جانے ارادہ کیا گرمیاں اپنے جوبن پر تھیں اور دن بھی بہت تیزی سے گزر رہے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ماہ کی چھٹیاں گزر چکی تھیں روزانہ دوستوں سے ذد بحث ہوتی تھی کہ کہیں گھومنے چلیں مگر کسی دوست کے گھر کا ،کسی کے ساتھ پیسوں کا مسئلہ اور کوئی انٹرنشپ کرنے میں مصروف تھا اور مجھے ایسا لگ رہا تھاکہ اس بار بھی چھٹیاں گھر بیٹھ کر گزر جائیں گی اور ہم کہیں نہیں جا پائیں گے۔ایک شام سب دوستوں سے رابطہ کیا اور سب کو اپنے گھر بلا یااور سب کو اس بات پر متفق کرنے کی کوشش کی کہ ہم کہیں گھومنے چلتے ہیں ۔تمام دوستوں کے مسئلہ مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے قریب ہی کسی شہر جانے کا ارادہ کیا۔ تو گھومنے کے لئے سے سب سے اچھا اور قریب شہر کراچی ہی تھا اور تمام دوست اس بات پر آسانی سے متفق بھی ہو گئے تھے کہ ہاں کل صبح کراچی نکلتے ہیں۔۔۔۔۔۔! 
سب دوست ایک ساتھ پہلی بار گھومنے جا رہے تھے تو بہت بے تاب تھے صبح 8 بجے میرے گھر جمع ہونے کا فیصلہ ہوا تھا مگر یہ پہلی بار تھا کہ سب وقت سے پہلے ہی جمع ہو گئے جس گاڑی والے سے کراچی چھوڑ کر آنے کی بات کی ہوئی تھی البتہ اس ضرور دیر کر دی تھی اور ہم ایک کے بعد ایک اسے فون پہ فون کر رہے تھے کافی دیر انتظار کے بعد گاڑی والا اللہ اللہ کر کے آ ہی گیا اور ہم جھٹ پٹ گاڑی میں سوار ہو گئے ابھی گاڑی کو چلے کچھ ہی لمحات گزرے تھے کہ گاڑی والے نے سی۔این۔جی کی قطار میں لے جاکرکھڑا کر دیا ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کے بعد نمبر آیا اور گھڑی پر نگاہ گئی تو دس بج چکے تھے اور ہم اپنے مقررہ وقت سے تین گھنٹے لیٹ ہو چکے تھے۔۔۔۔۔!
دیر ہو جانے کی وجہ سے سب کے مزاج میں بھی موسم والی گرمی آچکی تھی لیکن کچھ دیر گاڑی میں خاموش بیٹھنے کے بعد میں نے گاڑی میں ہنسی مزاق کا ماحول کا بنا دیا اور مزاج میں پیدا ہوئی گرمی ختم کردی کیوں کہ گھر سے بغیر ناشتے کے نکلے تھے اور سب بھوک سے نڈھال تھے اور ڈرائیور پر بہت غصہ بھی تھے تو ہم نے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کیا راستے میں جگہ جگہ رک کر سیلفیاں بنائیں ایک دوسرے سے مستی مزاق کیا اور پھر کراچی کے ٹول پلازہ پر نگاہ پڑی تو کراچی ہمارے سامنے تھا۔۔۔۔۔!

No comments:

Post a Comment