محمد بلال حسین صدیقی
2k14/MC/57
حکومتِ سندھ اور وفاق آمنے سامنے
پاکستان میں سورج طلوع ہوتا ہے تو روز سیاسی گہما گہمی بڑھتی دیکھائی دیتی ہے اور یہ آج کی بات نہیں بلکہ 70سال پرانی ہے ۔ان 70 سالوں میں پاکستان میں سیاست کے کئی اتاار چڑھاؤ آئے مگر آخر کار جہموری نظام قائم ہوگیا۔اس جہموری نظام قائم کرنے میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ آزادی کے 70سال میں سے تقریباً 30 سال ہی جہموری نظام قائم رہا۔پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ ہی گرم ماحول دیکھا گیا ہے روز ہی کوئی سیاست دان بیان دیتا ہے تو دوسرا اس کی تردید کر دیتا ہے ۔
یوں تو18ویں ترامیم کے بعدہر صوبے کو اب اختیارات حاصل ہیں اور وفاق اب اس ترامیم کے بعد صوبوں کے معاملات میں داخل اندازی نہیں کرسکتا لیکن ایسا ہوتا دیکھائی نہیں دیا گیا ۔ صوبہ سندھ میں وفاق کی دخل اندازی کا عمل اس وقت سے جاری ہے جب سے کراچی اپریشن کا آغاز کیا گیا مگر حکومتِ سندھ اور وفاق میں تنازعات کا سلسہ اس وقت شروع ہوا جب کرپشن کیس میں NABکی جانب سے ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کیا گیا حالانکہ سندھ میں کام کرنے والا ادارہ اینٹی کرپشن یونٹ اس عمل کی کاروائی کا پہلا حقدار ہے ۔یوں حکومتِ سندھ اور وفاق میں تنازعات کا سلسلہ جاری ہوگیااور آہستہ آہستہ رہنماؤں کی گرفتاریاں ،گمشدگیاں اور پھر پانی وبجلی کے معاملات نے وفاق اور سند ھ حکومت کے بیچ کے تنازعات کی دیوار کو اور مضبوط کردیا۔
بات یہی ختم نہیں ہوتی ان تنازعات کے بعد وفاق اور سندھ حکومت میں ایک الفاظی جنگ کو دھمکیوں تک پہنچا دیا۔آج سے پہلے جلسوں اور ریلیوں میں ایک دوسرے پر تنقید کرنے والے اور عرصہ داراز سے دوستیاں نبہانے والے آج ایک دوسرے پر جملوں کے ساتھ دھمکیاں تک دینے لگے۔وفاق کی منمانی اور بجا حد تجاوز کرنے کے بعد سندھ حکومت کا شدید ردِ عمل سامنے آنے لگا تین سال سے جاری وفاق کی بلا جاواز مداخلت نے سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو شدید الفاظ استعمال کرنے بلکہ دھمکیاں دینے پر مجبور کردیا۔
یہ آئینی حق ہے کہ جس صوبے میں گیس پیدا ہو تو پہلا اس صوبے کا حق ہے مگر پاکستان میں وفاق کی جانب سے منمانی کی بنیاد پر صوبہ سند ھ گیس سے محروم ہوگیا ہے اور اب وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے یہ عظم کیا ہے کہ اپنا حق لے کر رہے گئے۔یہ تو اب وقت ہی بتائے گا کہ معاملہ کتنا پیچیدہ ہے اور اس گہماگہمی کے نتیجے کا آخر کیا فیصلہ ہوگا۔