Thursday, 5 April 2018

عوام کی آواز


پاکستان لاکھوں قربانیوں کے بعد وجود میں آیا تقریباً 20 لاکھ افراد نے اپنی جان کا نظرانا پیش کیا تب جا کر ہمیں ایک ایسی سر زمین ملی جہاں ہم آزادی کے ساتھ اپنی زندگیاں بسر کرسکتے تھے۔ پاکستا ن ایک نام ملک کا نہیں بلکہ اس قوم کا نام ہے جہاں بلوچی،پٹھان ،سندھی ،پنجابی ،اردو اور متعدد زبان بولنے والے کڑوڑ لوگ بستے ہیں۔ پاکستان اس وقت بے پناہ مشکلات سے گز رہا ہے اور حسبِ اقتدار کو اس بات کی توقیق نہیں کہ وہ مسائل کا حل کر سکیں انہیں صرف اس بات سے مطلب ہے کہ وہ کس طرح عوام کے ٹیکس سے موصول رقم فضول کاموں پر خرچ اور ان پیسوں سے اپنی جیبیں بھر سکیں ۔موجودہ حکومت نے لاہور اورنج لائین ٹرین کے منصوبے پر 175بلین روپے کی لاگت متوقع تھی لیکن اس منصوبے پر اب تک 200بلین سے زائد کا خرچا ہوچکا ہے جبکہ اگر دیکھا جائے تو چھوٹے میا ں صاحب اس منصوبے سے ملک کوروزانہ کی بنیاد پر 40ملین روپے کا نقصان ہوگا اس کے علاوہ ان پیسوں سے تقریباًڈھائی لاکھ افراد کو اپنی گاڑیاں دلائی جاسکتی تھی مزید یہ کہ حکومتِ پنجاب کویہ شاید معلوم نہ تھا کہ پنجاب میں تقریباً 30لاکھ بچے اس وقت اسکول سے باہر ہیں اور اگر وہ ہر بچے کو 15,000معاوضہ دیتے تو پھر بھی یہ رقم بس 44ملین بنتی لیکن کیا کہنا ہے چھوٹے میا ں صاحب کا انھیں شاید یہ بھی معلوم نہ تھا کہ پنجاب میں 4 میں سے 3 لوگوں کوپینے کا صاف پانی مہیا نہیں اور اگر وہ پیسے اس کام میں لگا دیے جاتے تو تقریباً ساڑھے ساتھ کڑوڑ لوگوں تک پینے کے صاف پانی کی ریہائی ممکن بنائی جاسکتی تھی ۔جبکہ کینسر سے خطرناک مرض سے نمٹنے کے لئے 41 اسپتال قائم کئے جاسکتے تھے لیکن ایسا نہ ہوا کو میاں صاحب کو بس پورا پنجاب چھوڑ کر سارا پیسہ لاہور پر جو خرچ کرنے کی جو زد تھی جبہی تو تعلیم پر بس 59بلین اور صحت پر صرف54بلین روپے خرچ کئے۔

Saturday, 15 April 2017


محمد بلال حسین صدیقی 

2k14/MC/57

حکومتِ سندھ اور وفاق آمنے سامنے


پاکستان میں سورج طلوع ہوتا ہے تو روز سیاسی گہما گہمی بڑھتی دیکھائی دیتی ہے اور یہ آج کی بات نہیں بلکہ 70سال پرانی ہے ۔ان 70 سالوں میں پاکستان میں سیاست کے کئی اتاار چڑھاؤ آئے مگر آخر کار جہموری نظام قائم ہوگیا۔اس جہموری نظام قائم کرنے میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ آزادی کے 70سال میں سے تقریباً 30 سال ہی جہموری نظام قائم رہا۔پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ ہی گرم ماحول دیکھا گیا ہے روز ہی کوئی سیاست دان بیان دیتا ہے تو دوسرا اس کی تردید کر دیتا ہے ۔

یوں تو18ویں ترامیم کے بعدہر صوبے کو اب اختیارات حاصل ہیں اور وفاق اب اس ترامیم کے بعد صوبوں کے معاملات میں داخل اندازی نہیں کرسکتا لیکن ایسا ہوتا دیکھائی نہیں دیا گیا ۔ صوبہ سندھ میں وفاق کی دخل اندازی کا عمل اس وقت سے جاری ہے جب سے کراچی اپریشن کا آغاز کیا گیا مگر حکومتِ سندھ اور وفاق میں تنازعات کا سلسہ اس وقت شروع ہوا جب کرپشن کیس میں NABکی جانب سے ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کیا گیا حالانکہ سندھ میں کام کرنے والا ادارہ اینٹی کرپشن یونٹ اس عمل کی کاروائی کا پہلا حقدار ہے ۔یوں حکومتِ سندھ اور وفاق میں تنازعات کا سلسلہ جاری ہوگیااور آہستہ آہستہ رہنماؤں کی گرفتاریاں ،گمشدگیاں اور پھر پانی وبجلی کے معاملات نے وفاق اور سند ھ حکومت کے بیچ کے تنازعات کی دیوار کو اور مضبوط کردیا۔

بات یہی ختم نہیں ہوتی ان تنازعات کے بعد وفاق اور سندھ حکومت میں ایک الفاظی جنگ کو دھمکیوں تک پہنچا دیا۔آج سے پہلے جلسوں اور ریلیوں میں ایک دوسرے پر تنقید کرنے والے اور عرصہ داراز سے دوستیاں نبہانے والے آج ایک دوسرے پر جملوں کے ساتھ دھمکیاں تک دینے لگے۔وفاق کی منمانی اور بجا حد تجاوز کرنے کے بعد سندھ حکومت کا شدید ردِ عمل سامنے آنے لگا تین سال سے جاری وفاق کی بلا جاواز مداخلت نے سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو شدید الفاظ استعمال کرنے بلکہ دھمکیاں دینے پر مجبور کردیا۔

یہ آئینی حق ہے کہ جس صوبے میں گیس پیدا ہو تو پہلا اس صوبے کا حق ہے مگر پاکستان میں وفاق کی جانب سے منمانی کی بنیاد پر صوبہ سند ھ گیس سے محروم ہوگیا ہے اور اب وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے یہ عظم کیا ہے کہ اپنا حق لے کر رہے گئے۔یہ تو اب وقت ہی بتائے گا کہ معاملہ کتنا پیچیدہ ہے اور اس گہماگہمی کے نتیجے کا آخر کیا فیصلہ ہوگا۔

Sunday, 19 March 2017


مسائل کے انبار
محمد بلال حسین صدیقی
2k14/MC/57

جب سے پاکستان وجود میں آیا تب سے اب تک حکمران ووٹ طلب کرنے کے چکر میں عوام کو نعروں کے بیچ گھوما رہے ہیں کیونکہ یہ ہمارے حکمرانوں کی پالیسی رہی ہے کہ جو کام کر سکتے ہو اس کی ہامی بھرو اور جو نہیں کرنا اس کی ہامی کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے دعوے بھی کرو۔تاریخ گواہ ہے حکمران خواہ کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو اقتدار میں آ کر عوام کے لئے کچھ نہیں کیا۔

ایسا ممکن نہیں کہ جہاں آبادی ہو وہاں مسائل نہ ہوں لیکن ان مسائل کو حل کرنا ہمارے حکمرانوں کا فرض ہے ایسے ہی مسائل حیدرآباد کے علا قے لطیف آباد ہونٹ نمبر ۵ میں بھی موجود ہیں جو حل ہونے کے لئے حکمرانوں کے منتظر ہیں ۔علاقے میں موجود سبزی مارکیٹ آئے دن سیوریج کا پانی سڑک پر جما ہونے کے باعث کسی ند ی کا منظر پیش کر تی ہے ۔ایک رہائشی علاقے میں یہ کمرشل تعمیر ناقابلِ قبول ہے ۔جس کے باوجود یہ مارکیٹ گذشتہ 20 سالوں سے قائم ودائم ہے اور اس کی روک تھام کے لئے بلدیا کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہاں مگر پریشان کرنے کے لئے کبھی کسی دکان کبھی کسی ٹھلیے والے سے بھتہ زرور وصول کیا۔اس مارکیٹ کے باعث جہاں لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء کی خرید وفروخت میں آسانی ہوئی ہے وہیں آئے دن اس مارکیٹ میں موجود گندا پانی اور کچراو غلازت کے باعث پریشانیوں کا بھی شکار ہوئے ہیں ۔کچھ مہینوں قبل بلدیا کی جانب سے اس مارکیٹ کی انکروچمنٹ کروائی گئی اور افسران نے اس مارکیٹ کو یہاں سے کسی دوسری مناسب جگہ منتقل کرنے کا دعواہ بھی کرامگر نہ تو اس انکروچمنٹ کا اس مارکیٹ پر کوئی خاص اثر ہوا اور نہ یہ مارکیٹ اپنی جگہ سے کسی دوسری جگہ منتقل ہو پائی اور یوں یہ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

اس کے علاوہ اگر دیکھا جائے تو علاقے کا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ علاقے کے بیچ و بیچ موجود سمنٹ بجری اور تعمیر میں استعمال شدہ دیگر اشیاء کی فروخت کی دکانوں کے باعث سڑک کنارے ریت ، بجری اور اینٹوں کے ڈھیر جما رہتے ہیں اور یہ ڈھیر دیکھتے ہی دیکھتے سڑک کے کنارے سے سڑک پر آجاتے ہیں جس کے باعث دھول مٹی علاقے میں آئے دن اڑتی رہتی ہے اور ٹریفک کی آمدو رفت میں مشکلات کا سامنا پیش کرنا پڑتا ہے اکثر اوقات اس بجری کے باعث گاڑیاں حادثے کا شکار بھی ہوجاتے ہیں ۔اس دھول مٹی کی وجہ سے نہ صرف صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ یہ مٹی آس پاس کے علاقے میں موجود کھانے پینے کی فروخت کی اشیاء کو بھی مضرِ صحت بنادیتی ہے اس سب کے باوجود ان دکانوں نے اپنی دکان سے 50سے80فٹ زائد جگہ پر قبضہ بھی کیا ہوا ہے مگر کوئی پو چھنے والا نہیں۔ان دکانوں پر بڑے بڑے ٹرالے اور ٹرک سامان پہچانے آتے ہیں جن کی عموماً دن میں شہر میں داخلے پر پابندی ہے مگر یہ ٹرک کھولے عام شہر میں داخل ہوتے ہیں اور سامان پہنچا کر واپس لوٹ جاتے ہیں نہ تو انہیں کوئی ٹریفک پولس والا پکڑتا ہے اور نہ ہی کسی چلان کا سامنا کرنا پڑتا ہے

کہا جاتا ہے کہ جن علاقوں کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں کے اسپتال ویران ہوتے ہیں لیکن لطیف آباد نمبر ۵ میں موجود محبوب گراونڈ حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے یہ گروانڈ کسی باڑے کا منظر پیش کرتا ہے جس کے باعث علاقے میں موجود بچوں کو سڑک پر کھیلنا پڑتا ہے ۔اس گروانڈ کا گذشتہ سال بجٹ پاس کیا جو کہ سیاست کی نظر ہوگیا اور اس گروانڈ کی حالت میں کوئی فرق نہیں آیا۔

ان مسائل کا حل ہمارا بنیادی حق ہے جو کہ کئی سالوں سے حکومت کے منتظر ہیں ان مسائل کا حل صرف بلدیاکے ہاتھ میں جو کہ اپنے زاتی فوائد کے لئے اپنے عہدوں کا استعمال کرتے ہیں حکمران ووٹوں کی طلب کے چکر میں ہمیشہ انہی حقوق کو پورا کرنے کا عزم کرتے ہیں اور ہمیشہ نا کام رہتے ہیں ۔ان باتوں اور حالات سے اب صاف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اربابِ اقتدار کو کرسی بچانے اور حسبِ اقتدار کو کرسی چھینے کے منسوبوں سے فرصت نہیں عوام کے مسائل سب سیاست کی نظر کردیے جاتے ہیں اور شکایت گزار کو بڑے بڑے دعوے بھر کر گھر لوٹا دیا جاتا ہے تاکہ وہ سکون کی سانس بھر کر لوگوں میں کہہ سکے کہ فلاح سیاست دان نے میر ے مسئلے کو ختم کرنے کی ہامی بھری ہے۔

Sunday, 5 March 2017


دوستوں کے ساتھ سفر
محمد بلال حسین صدیقی
2k14/MC/57






سیمسٹر سے فارغ ہوئے تو دوستوں کے ساتھ گھومنے جانے ارادہ کیا گرمیاں اپنے جوبن پر تھیں اور دن بھی بہت تیزی سے گزر رہے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ماہ کی چھٹیاں گزر چکی تھیں روزانہ دوستوں سے ذد بحث ہوتی تھی کہ کہیں گھومنے چلیں مگر کسی دوست کے گھر کا ،کسی کے ساتھ پیسوں کا مسئلہ اور کوئی انٹرنشپ کرنے میں مصروف تھا اور مجھے ایسا لگ رہا تھاکہ اس بار بھی چھٹیاں گھر بیٹھ کر گزر جائیں گی اور ہم کہیں نہیں جا پائیں گے۔ایک شام سب دوستوں سے رابطہ کیا اور سب کو اپنے گھر بلا یااور سب کو اس بات پر متفق کرنے کی کوشش کی کہ ہم کہیں گھومنے چلتے ہیں ۔تمام دوستوں کے مسئلہ مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے قریب ہی کسی شہر جانے کا ارادہ کیا۔ تو گھومنے کے لئے سے سب سے اچھا اور قریب شہر کراچی ہی تھا اور تمام دوست اس بات پر آسانی سے متفق بھی ہو گئے تھے کہ ہاں کل صبح کراچی نکلتے ہیں۔۔۔۔۔۔! 

سب دوست ایک ساتھ پہلی بار گھومنے جا رہے تھے تو بہت بے تاب تھے صبح 8 بجے میرے گھر جمع ہونے کا فیصلہ ہوا تھا مگر یہ پہلی بار تھا کہ سب وقت سے پہلے ہی جمع ہو گئے جس گاڑی والے سے کراچی چھوڑ کر آنے کی بات کی ہوئی تھی البتہ اس ضرور دیر کر دی تھی اور ہم ایک کے بعد ایک اسے فون پہ فون کر رہے تھے کافی دیر انتظار کے بعد گاڑی والا اللہ اللہ کر کے آ ہی گیا اور ہم جھٹ پٹ گاڑی میں سوار ہو گئے ابھی گاڑی کو چلے کچھ ہی لمحات گزرے تھے کہ گاڑی والے نے سی۔این۔جی کی قطار میں لے جاکرکھڑا کر دیا ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کے بعد نمبر آیا اور گھڑی پر نگاہ گئی تو دس بج چکے تھے اور ہم اپنے مقررہ وقت سے تین گھنٹے لیٹ ہو چکے تھے۔۔۔۔۔!
دیر ہو جانے کی وجہ سے سب کے مزاج میں بھی موسم والی گرمی آچکی تھی لیکن کچھ دیر گاڑی میں خاموش بیٹھنے کے بعد میں نے گاڑی میں ہنسی مزاق کا ماحول کا بنا دیا اور مزاج میں پیدا ہوئی گرمی ختم کردی کیوں کہ گھر سے بغیر ناشتے کے نکلے تھے اور سب بھوک سے نڈھال تھے اور ڈرائیور پر بہت غصہ بھی تھے تو ہم نے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کیا راستے میں جگہ جگہ رک کر سیلفیاں بنائیں ایک دوسرے سے مستی مزاق کیا اور پھر کراچی کے ٹول پلازہ پر نگاہ پڑی تو کراچی ہمارے سامنے تھا۔۔۔۔۔!

Tuesday, 28 February 2017


ایک یادگار سفر
محمد سعود شیخ
2k14/MC/63

یہ انسانی نفسیات ہے کہ اسے اس کائنات میں قدرت کی تخلیق کردہ چیزوں کو سمجھنے اور دیکھنے کا شوق ہوتا ہے اور اس فطرت اور خواہش کو پورا کر نے کے لئے یہ اکثر اوقات ان جگہوں کا رخ کرتا ہے جو قدرتی حسن سے بھرپور ہے کیونکہ اس روز مرہ زندگی اور انسانی تخلیق کردہ ماحول سے جب انسان تھک جاتا ہے تو ماحول میں تبدیلی کی خواہش کرتا ہے ۔

اسی فطرت اور خواہش کو محسوس کرتے ہوئے گذشتہ سال کی ابتداء میں میں نے بھی روز مرہ زندگی اور ماحول میں کچھ تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا صوبہ سندھ میں رہنے کی بدولت اس کے تو کچھ قدیمی شہر اور مقامات میں دیکھ چکا تھا تو ایسے میں میں نے صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختون خواہ کا رخ کیا دوسروں کی زبانی اور کیمرے کی آنکھ سے تو ان صوبوں کے مختلف مقامات سنے اور دیکھے تھے لیکن اب وہاں جانے کا فیصلہ کیا میں نے اپنے سفر کا آغاز حیدرآباد ریلوے اسٹیشن سے کیا جس میں میرا شریکِ سفر میرا کزن تھا جو خود تفریح کا شوقین تھا اور پہلے کئی مرتبہ ان صوبوں کو دیکھ چکا تھا جس کے باعث وہ میرے لئے ایک اچھا گائیڈ اور خاص طور پر فوٹوگرافر بھی رہا ۔

ہماری منزل حیدرآباد کے بعد راولپنڈی تھی جو سفر ہم نے بذریعہ تیزگام کیایہ اندر سے انتہائی صاف ستھری اور کشادہ تھی یہ میری زندگی کاایک طویل سفر تھاجو ساڑھے چھ بجے حیدرآباد ریلوے اسٹیشن سے شروع ہوااور صبح ساڑھے ساتھ بجے فیصل آباد ریلوے اسٹیشن پر ختم ہوا۔اسٹیشن پر رک کر ہم نے ناشتہ کیایہاں خاصی ٹھنڈ محسوس ہورہی تھی ہم نے آگے سفر کر نا تھا اسٹیشن انکواری سے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ اگلی ٹرین عوامی ایکسپریس ہے جو راولپنڈی جائے گی عوامی کا نام سن کر میرے دل میں ذرا کھٹکا ہو الیکن غنیمت جان کر اسی میں سفر کرنے کا ارادہ کیالیکن عوامی نے چلتے ہی پاکستان ریلوے کی حقیقت وضع کرنا شروع کردی ۔ 

تیز گام میں سفر کرنے کے بعد عوامی میں سفر کرنا زندگی کا بدترین تجربہ تھا۔سیٹیں جگہ جگہ سے اکھڑی ہوئی انتہائی شور اور سخت بدبو کے ساتھ بے تہاشہ رش نے سفر کو اجیرن کردیا تھااس کے ساتھ ساتھ عوامی کی دریا دلی دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا تھاجس کی وجہ دورانِ سفر سامنے آنے والی ٹرینوں کا انتظار اور انہیں جانے کی جگہ دینا تھاجس کی باعث پانچ گھنٹے کا یہ سفر گیارہ گھنٹے پر مشتمل ہوگیا۔

راولپنڈی پہنچ کر ہم نے رات ہوٹل میں قیام کیا صبح ہم نے ناشتہ کیااور اسلام آباد کا بذریعہ ٹیکسی رخ کیااسلا م آباد کی سڑکیں خاصی کشادہ تھیں جس کے ارد گرد ہریالی ہی ہریالی تھی یہاں پہلے ہم نے مشہور و معروف مسجد فیصل مسجد کا رخ کیاجو ایک وسیع و عریض رقبے پر محیط ہے جس کے چاروں اطراف اونچے اونچے پہاڑاس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں اس خوبصورت مسجد کو دیکھنے کے بعد ہم لوگ لوک ورثہ عجائب گھر گئے جہاں بہترین آرٹ دیکھنے کو ملی یہاں زیادہ تر پرانی تہذیب ،رہن سہن اور پاکستان کے لوگوں کے مختلف کلچر کو مختلف صورتوں میں پیش کیا گیا تھا۔یہاں سورج ڈھلنے لگا تو ہم نے دوبارہ اپنی ہوٹل کا رخ کیا جس کے بعد ہماری دوسری منزل سوات تھی جس کے لئے ہم نے راولپنڈی سے بس میں سوات تک کا سفر طے کیا یہ راستہ قدرتی مناظر سے بھر پور اور خاصا راستہ پر خطر بھی تھاجو پہاڑوں کے درمیان سے ہوتا ہوا سوات تک جاتا تھااکثر اوقات پتلے راستے کے ایک جانب کھائی بھی موجود ہوتی تھی البتہ یہ سفر7گھنٹے میں مکمل ہوا ۔

جس کے بعد رات ہم نے ہو ٹل میں قیام کیااور صبح سوات شہر گھومنے نکل گئے سوات کے لوگ زیادہ تر مذہبی ذہن رکھتے ہیں اور ان کا لباس شلوار قمیض ہو تا ہے اور زیادہ تر سر پر ٹوپی ہوتی ہے عورتیں عام روڈ اور بازاروں میں دیکھنے میں کم آتی ہیں لیکن یہاں عورتوں کا لباس مکمل پردہ ہوتا ہے جو سر سے لیکر پاؤوں تک ڈھکا ہوا ہوتا ہے۔یہاں کے لوگ بہت پیدل چلتے ہیں اور نہایت تندرست بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ صاف ماحول اور صحت مند غذائیں ہیں اور یہاں کے لوگ لکڑی کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔

سوات میں موجود اونچے اونچے پہاڑوں کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے اس کے علا وہ یہاں سیاحوں کے لئے یہاں کے لوگوں نے مختلف پوانٹ بنا رکھے ہیں جہاں کا رخ ہم نے بھی کیا جن میں سے ایک جگہ مالم جبہ بھی ہے جہاں پہاڑوں پر جمی ہوئی برف ایک خوبصورت منظر پیش کرتی ہے اس کے علا وہ اور بھی دوسر ے مقامات جیسے ناران کاغان کی ہم نے سیر کی یہ مقامات بھی اپنی مثال آپ ہیں اور یہ دل افروز مناظر انسان کو ذہنی سکون کے ساتھ ساتھ دلی سکون بھی پہنچاتے ہیں یہ میری زندگی کا ایک بہترین سفر تھا جس کے باعث قدرت کے تخلیق کردہ مناظر کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا آٹھ دن کے اس کے سفر کے بعد میں نے 
اپنے گھر کی راہ لی۔


تکلیف دہ سفر
محمد راحیل
2k14/MC/68

انسان کی زندگی میں کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جو بھلائے نہیں بھولے جاتے مگر کچھ سفر ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان اپنے لیئے نہیں بلکہ دوسروں کے لیئے کرتا ہے ایسا ہی میرا ایک گذشتہ دنوں کا جو سفر ہے وہ ایسا دردناک کہانی پر مبنی ہے جو میں آج اپنی تحریر میں آپ کی نظر کر رہا ہوں۔

کچھ روز قبل ایک پیش آنے والا واقعہ جس نے پوری پاکستانی قوم کو رولا کر رکھ دیا16فروری کی شام پورے پاکستان کے لئے ہی دردناک تھی جب دہشت گردوں نے حٖضرت عثمان شاہ مروندی(لال شہباز قلندر) کے مزار کو خون میں نہلا دیا تھاجمعرات کی شام لال شہباز قلندر کے مزار پر معمول کے مطابق دھمال جاری تھاتو اس وقت سوفیوں کی سر زمین کو لہو لوہان کر دیااس دہشت گردی کہ کاروائی میں کئی لوگ جام شہادت نوش کر چکے تھے تو وہیں ان سے چار گنا ہ زیادہ زخمی موجود تھے جو اپنی زندگی کے دردناک لمحات سے گزر رہے تھے۔

حیدرآباد سے سہون کا سفر تقریبا 135کلو میٹر کا ہے جیسے ہی ہمارے پاس یہ اطلا ع آئی کہ سہون کے زخمیوں کو طبی معائنہ اور خون کی اشد ضرورت ہے میں اور میرے چار دوستوں نے فوری طور پر سہون پہچنے کافیصلہ کیا135کلومیٹر کا سفر طے کر نے میں ویسے توڈیڑھ سے دو گھنٹے لگتے ہیں مگر اس وقت یہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے کا سفر دنوں کی مانند گزر رہے تھے راستے میں ٹریفک جام تھااور شام ڈھلنے کے بعد روشنی کا سڑک پر کوئی خاطر خواہ انتظام بھی موجود نہیں تھامگر لوگوں کا درد ذہن میں رکھ کر ہم نے سہون کے قریبی علا قے (لکی شاہ صدر) میں اپنے دوست کے گھر پر گاڑی کو پارک کیااور وہاں سے سہون کا سفر پیدل طے کرنے کا سوچاکیونکہ روڈ پر ٹریفک جام تھااور لوگ افرا تفری کے عالم میں ادر سے ادھر بھاگ رہے تھے جہاں ہم نے اپنی گاڑی کھڑی کی تھی وہاں سے سہون کی درگاہ کم وبیش 25سے30کلو میٹر دور تھی اور یہ سفر ہم اگر گاڑی میں طے کرتے تو ہمیں کافی دیر لگ جاتی تو ہم نے وہاں سے کچے کے راستے پیدل سہون پہچنے کا ذہن بنایاوہاں سے پیدل سہون پہچنے میں دو گھنٹے سے زائد کا وقت لگااور وہاں پہنچ کر ہماری آنکھوں نے جو مناظر دیکھے وہ میں اپنی تحریر میں آپ کی نظر نہیں کر سکتاکیونکہ وہ لوگوں کی دردناک چینخیں اور سفید سنگ مر مر سے بنا ہوا مزارخون میں لت پت تھا نہ تو مجھ میں وہ منظر بیان کرنے کا حوٖصلہ موجود ہے اور نہ ہی پڑھنے والے میں اتنی ہمت ہوگی کہ وہ انسانیت کی تذلیل کو پڑھ سکے۔۔۔۔!


دوستوں کے ساتھ سفر
محمد بلال حسین صدیقی
2k14/MC/57

سیمسٹر سے فارغ ہوئے تو دوستوں کے ساتھ گھومنے جانے ارادہ کیا گرمیاں اپنے جوبن پر تھیں اور دن بھی بہت تیزی سے گزر رہے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ماہ کی چھٹیاں گزر چکی تھیں روزانہ دوستوں سے ذد بحث ہوتی تھی کہ کہیں گھومنے چلیں مگر کسی دوست کے گھر کا ،کسی کے ساتھ پیسوں کا مسئلہ اور کوئی انٹرنشپ کرنے میں مصروف تھا اور مجھے ایسا لگ رہا تھاکہ اس بار بھی چھٹیاں گھر بیٹھ کر گزر جائیں گی اور ہم کہیں نہیں جا پائیں گے۔ایک شام سب دوستوں سے رابطہ کیا اور سب کو اپنے گھر بلا یااور سب کو اس بات پر متفق کرنے کی کوشش کی کہ ہم کہیں گھومنے چلتے ہیں ۔تمام دوستوں کے مسئلہ مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے قریب ہی کسی شہر جانے کا ارادہ کیا۔ تو گھومنے کے لئے سے سب سے اچھا اور قریب شہر کراچی ہی تھا اور تمام دوست اس بات پر آسانی سے متفق بھی ہو گئے تھے کہ ہاں کل صبح کراچی نکلتے ہیں۔۔۔۔۔۔! 
سب دوست ایک ساتھ پہلی بار گھومنے جا رہے تھے تو بہت بے تاب تھے صبح 8 بجے میرے گھر جمع ہونے کا فیصلہ ہوا تھا مگر یہ پہلی بار تھا کہ سب وقت سے پہلے ہی جمع ہو گئے جس گاڑی والے سے کراچی چھوڑ کر آنے کی بات کی ہوئی تھی البتہ اس ضرور دیر کر دی تھی اور ہم ایک کے بعد ایک اسے فون پہ فون کر رہے تھے کافی دیر انتظار کے بعد گاڑی والا اللہ اللہ کر کے آ ہی گیا اور ہم جھٹ پٹ گاڑی میں سوار ہو گئے ابھی گاڑی کو چلے کچھ ہی لمحات گزرے تھے کہ گاڑی والے نے سی۔این۔جی کی قطار میں لے جاکرکھڑا کر دیا ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کے بعد نمبر آیا اور گھڑی پر نگاہ گئی تو دس بج چکے تھے اور ہم اپنے مقررہ وقت سے تین گھنٹے لیٹ ہو چکے تھے۔۔۔۔۔!
دیر ہو جانے کی وجہ سے سب کے مزاج میں بھی موسم والی گرمی آچکی تھی لیکن کچھ دیر گاڑی میں خاموش بیٹھنے کے بعد میں نے گاڑی میں ہنسی مزاق کا ماحول کا بنا دیا اور مزاج میں پیدا ہوئی گرمی ختم کردی کیوں کہ گھر سے بغیر ناشتے کے نکلے تھے اور سب بھوک سے نڈھال تھے اور ڈرائیور پر بہت غصہ بھی تھے تو ہم نے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کیا راستے میں جگہ جگہ رک کر سیلفیاں بنائیں ایک دوسرے سے مستی مزاق کیا اور پھر کراچی کے ٹول پلازہ پر نگاہ پڑی تو کراچی ہمارے سامنے تھا۔۔۔۔۔!

Wednesday, 15 February 2017


محمد بلال حسین صدیقی

2k14/MC/57

پی ایس ایل اور اسپٹ فکسنگ




پاکستان کرکٹ بورڈ کی 7سالہ کوششوں سے رنگ لانے والی پاکستان سپر لیگ 2016میں دبئی میں منعقد ہوئی ۔جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے نامور انٹرنیشنل کھلا ڑیوں نے حصہ لیا۔ پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن کو دنیا بھر میں بے حد پذ یرای ملی بلکہ کا میاب اختتام بھی ہوا جس سے مخالفین مملک کے منہ بند ہوگئے


مگر دشمن عناصر لوگوں کی میلی نگاہ پاکستان سپر لیگ پر پہلے ہی پڑ چکی تھی اور اس لیگ کو ناکام بنانے کی سازشوں میں لگ گئے تھے۔دوسرے ایڈیشن سے قبل یہ توقعات کی جا رہیں تھیں کہ 2017میں پاکستان سپر لیگ کو پہلے سے کئی زیادہ دیکھا اور کامیاب بنایا جائے گالیکن اس لیگ کے ابتداء میں ہی کچھ ایسے واقعات رونماء ہوئے جس سے لیگ کی ساکھ کو انتہائی نقصان پہنچا۔


جوں ہی پاکستان سپر لیگ کے پہلے میچ کا آغاز ہوا اسپٹ فکسنگ ملو ث کھلاڑیوں کے کئی نام سامنے آگئے اس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیر مین شہریار خان نے فوری طور پر اینٹی کرپشن یونٹ کی مدد سے ان مشکوک کھلاڑیوں کے خلا ف کاروائی کا آغاز کیا اور شواہد کی بناء پر پاکستان کے دو نامور اوپنر کھلاڑی شرجیل خان اور خالد لطیف کوپی ۔ایس۔ ایل سے باہر کر کہ انھیں وطن واپس جانے کی ہدایت دے دی۔


اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کرکٹ جیسے مشہور کھیل جسے پاکستانی عوام دل و جان سے دیکھنا چا ہتی ہے اسے چند پیسوں کے عوض خراب کرنے اور لوگوں کے دلوں کو ٹھیس پہچانے والوں کے ساتھ ایسی طرح سلوک ہونا چا ہیئے لیکن اس سارے معاملے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا جو طریقہ پاکستانی میڈیا نے اختیار کیا اس سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنا می ہوئی اپنی ٹی ۔آر۔ پی کی خاطر اپنے کھلاڑیوں اور اپنے ملک کا نام بدنام کیا اور پاکستان کرکٹ بورڈ جو اس وقت ایک بہترین ایونٹ کروارہا ہے اس نے اس ایونٹ پر اور زیادہ توجہ دینے کے بجائے پوری دنیا کے سامنے صفا ئیاں دینے کے لیے پیش ہو گیا۔اس واقع کو کسی دوعی طرح بھی نمٹا جاسکتا تھا لیکن پاکستان کی آزاد میڈیا ایک بار پھر ملک کی رسوائی کا باعث بنا ۔اس سلسلے میں سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو خاموشی سے بھی ڈیل کیا جا سکتا تھا۔


اس پوری صورتحال کے بعد پی سی بی کو کچھ سخت اقدامات اٹھانے کی سخت ضرورت ہے تا کہ کرکٹ جیسے مشہور کھیل کواسپٹ فکسگ اور دوسری کرپشن سے پاک کیا جائے اور شائیقین کرکٹ اس کھیل سے بھر پور طریقے سے لطف اندوز ہو سکیں ۔



محمد سعود شیخ
2k14/MC/63

پاکستان کرکٹ سے پی ایس ایل تک

ایک وقت تھا جب ہماری کرکٹ عروج پر تھی اور ہر جگہ اور ہر گلی اور سات سمندر پار تک ہماری کرکٹ
کے اور ہمارے کرکٹرز کے عاشق موجود تھے اور کرکٹ ہمارے ملک کے لوگوں کی دل کی دھڑکن تھی لیکن اسے ایسی بری نظر لگی کہ ہم ہر میدان میں رسوا ہو کر رہ گئے ا ور ایسا ہو ا جیسے ناکامی ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی ہو ۔
جیت تو جیسے عید کا چاند ہوگئی اور اس جیت کو دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئیں اور ایک وقت تو ایسا آیا جب ہم زمبابوے سے بھی میچ جیتنے کی دعائیں مانگنے لگے۔آئی سی سی ولڈ کپ گیا،ایشیاء کپ گیا،آئی سی سی ورلڈ ٹی 20بھی گیا ۔ ہم پھر بھی نعرے لگاتے رہے ’تم جیتو یا ہارو ۔۔۔ ہمیں تم سے پیار ہے‘ لیکن یہ ہمارا دل جانتا ہے کہ کتنی ہمت کر کے ہم نے یہ نعرہ لگا یا ورنہ ارادے تو ہمارے مرحوم ہٹلر والے تھے ۔
اگر دیکھا جائے تو کھیلوں میں سب سے زیادہ بجٹ کرکٹ کے لئے مختص کیا جاتا ہے اور ہمارے ملک میں یہ وہ واحد کھیل ہے جس میں ہم کسی قدر آگے تھے لیکن اب تو باقی کھیلوں کی طرح ہماری کرکٹ بھی انٹر نیشنل لیول پر ختم ہوتی جا رہی ہے ۔ہمارے اسٹیڈیم تو پہلے ہی ویران تھے اب بس پی ایس ایل کا سہارا ہے۔ ویسے اگر دیکھا جائے پا کستان میں کرکٹ کے فروغ کے لئے یہ ایک اچھا اقدا م ہے اور اس طرح نئے کھلاڑی نکل کر سامنے آسکتے تھے لیکن ایسانہ ہوا۔
پی ایس ایل میں بھی ہمارے کھلا ڑیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا ۔پی ایس ایل ہے تو پاکستان کی لیگ مگر فوقیت غیر ملکی کھلاڑیوں کو دی گئی۔اس بارے میں ٹیم مالکان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت سے پی ایس ایل کامیاب رہے گی۔ اس کے برعکس انڈین پر یمیئر لیگ کو دیکھا جائے تو وہاں ہر سال نیا ٹیلنٹ دیکھنے کو ملتا ہے جس نے انڈیا کی قومی ٹیم کو مضبوط سے مضبوط تر کر دیا ہے ۔لیکنیہاں ٹیلنٹ نہیں ناموں کو فوقیت دی جا رہی ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان سپر لیگ میں چند نئے کھلا ڑیوں کو موقع دیا گیا اور انھوں نے اپنی صلا حتوں کے جو ہر دکھائے لیکن یہ کافی نہیں اگر کچھ اور کھلا ڑیوں کو موقع دیا جاتا تو نیا ٹیلنٹ سامنے آسکتا تھا لیکن ایسا نہ ہو سکا اس کی وجہ کچھ لوگ پی سی بی میں موجود اقربا پروری اور سفارش کو قرار دیتے ہیں لیکن جو بھی ہو پی ایس ایل کا ہونا پاکستا ن کے مفا د میں ہے اور اس طرح ہم اپنی کرکٹ کو ایک بار پھر دنیا بھر میں منواسکتے ہیں اور غیر ملکی ٹیموں کی مہمان نوازی کر کے ایک بار پھر اپنے میدا نوں کو تما شائیوں کی آوازوں سے گونجتا ہو ا سن سکتے ہیں ۔