محمد بلال حسین صدیقی
2k14/MC/57
پی ایس ایل اور اسپٹ فکسنگ
پاکستان کرکٹ بورڈ کی 7سالہ کوششوں سے رنگ لانے والی پاکستان سپر لیگ 2016میں دبئی میں منعقد ہوئی ۔جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے نامور انٹرنیشنل کھلا ڑیوں نے حصہ لیا۔ پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن کو دنیا بھر میں بے حد پذ یرای ملی بلکہ کا میاب اختتام بھی ہوا جس سے مخالفین مملک کے منہ بند ہوگئے
مگر دشمن عناصر لوگوں کی میلی نگاہ پاکستان سپر لیگ پر پہلے ہی پڑ چکی تھی اور اس لیگ کو ناکام بنانے کی سازشوں میں لگ گئے تھے۔دوسرے ایڈیشن سے قبل یہ توقعات کی جا رہیں تھیں کہ 2017میں پاکستان سپر لیگ کو پہلے سے کئی زیادہ دیکھا اور کامیاب بنایا جائے گالیکن اس لیگ کے ابتداء میں ہی کچھ ایسے واقعات رونماء ہوئے جس سے لیگ کی ساکھ کو انتہائی نقصان پہنچا۔
جوں ہی پاکستان سپر لیگ کے پہلے میچ کا آغاز ہوا اسپٹ فکسنگ ملو ث کھلاڑیوں کے کئی نام سامنے آگئے اس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیر مین شہریار خان نے فوری طور پر اینٹی کرپشن یونٹ کی مدد سے ان مشکوک کھلاڑیوں کے خلا ف کاروائی کا آغاز کیا اور شواہد کی بناء پر پاکستان کے دو نامور اوپنر کھلاڑی شرجیل خان اور خالد لطیف کوپی ۔ایس۔ ایل سے باہر کر کہ انھیں وطن واپس جانے کی ہدایت دے دی۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کرکٹ جیسے مشہور کھیل جسے پاکستانی عوام دل و جان سے دیکھنا چا ہتی ہے اسے چند پیسوں کے عوض خراب کرنے اور لوگوں کے دلوں کو ٹھیس پہچانے والوں کے ساتھ ایسی طرح سلوک ہونا چا ہیئے لیکن اس سارے معاملے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا جو طریقہ پاکستانی میڈیا نے اختیار کیا اس سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنا می ہوئی اپنی ٹی ۔آر۔ پی کی خاطر اپنے کھلاڑیوں اور اپنے ملک کا نام بدنام کیا اور پاکستان کرکٹ بورڈ جو اس وقت ایک بہترین ایونٹ کروارہا ہے اس نے اس ایونٹ پر اور زیادہ توجہ دینے کے بجائے پوری دنیا کے سامنے صفا ئیاں دینے کے لیے پیش ہو گیا۔اس واقع کو کسی دوعی طرح بھی نمٹا جاسکتا تھا لیکن پاکستان کی آزاد میڈیا ایک بار پھر ملک کی رسوائی کا باعث بنا ۔اس سلسلے میں سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو خاموشی سے بھی ڈیل کیا جا سکتا تھا۔
اس پوری صورتحال کے بعد پی سی بی کو کچھ سخت اقدامات اٹھانے کی سخت ضرورت ہے تا کہ کرکٹ جیسے مشہور کھیل کواسپٹ فکسگ اور دوسری کرپشن سے پاک کیا جائے اور شائیقین کرکٹ اس کھیل سے بھر پور طریقے سے لطف اندوز ہو سکیں ۔
No comments:
Post a Comment