محمد راحیل شیخ
2k14/MC/68
یی ایس ایل کے فائنل کو نظر لگ گئی
پاکستان سپر لیگ پہلے دن سے ہی دشمنوں کی نگاہ میں کھٹک رہا ہے اور وہ اس کو نا کام بنا نے کی سر توڑ کوششوں میں لگے ہیں پاکستانی کرکٹ کے دشمنوں کی نیندیں تو اس وقت اڑیں جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے اعلان کیا کہ پی ۔ایس ۔ایل کا فائنل لاہور میں منعقد ہو گا یہ خبر کرکٹ و پاکستان کے دشمنوں پر کہر بن کر گری اور ان کی راتوں کی نیند کے ساتھ ساتھ دن کا سکون بھی چھین کر لے گئی دشمن کو یہ بات ہضم ہو ہی نہیں رہی تھی کہ اس لیگ کا فائنل لاہور میں ہونا ہے جب سے اعلان ہوا ہے کی پی ۔ایس ۔ایل کا فائنل پاکستان میں ہونا ہے تب سے ہی دشمن ملک کی میڈیا پر اس با کا رونا پڑا ہوا تھا کہ پاکستان کرکٹ کے لئے ایک غیر محفوظ ملک ہے..........!
پاکستان لیگ کے دوسرے ایڈیشن کا شاندار آغاز ہوا تو ہی میچ میں پاکستانی کرکٹرز کو اسپاٹ فکسنگ کے جھانسہ میں پھنسا کر پاکستانی کرکٹ پر وہ بد نما داغ لگایا جو شاید ہی اب کبھی دھل پائے جس سے دو کھلاڑیوں کا کیریئر دائو پر لگا دشمن ہر کرح سے اس لیگ کو داغ دار کرنا چاہتا تھا مگر اسپاٹ فکسنگ میں جن کھلاڑیوں کے نا آئے صرف انہیں گھر جانا پڑا اس کے علاوہ پی ۔ایس ۔ایل کا کچھ نہروڈ بگڑا اور لیگ اسپاٹ کی ذد میں آنے کے باوجود زور و شور سے جاری تھا اور پی ۔ایس ۔ایل دنیا بھر اپنی رونقیں بکھیر رہا تھا تو طرف دشمنوں کے ذہنوں میں یہ بات کھٹک رہی تھی کہ لیگ کا فائنل لاہور میں ہونا ہے اور تمام بین الاقوامی کھلاڑیوں نے بھی اس بات پر آمادگی کا اظہار کیا ہوا تھا کہ وہ لیگ کا فائنل پاکستان جا کر کھلیں گے یہ بات پاکستانی کرکٹ شائقین کے لئے تو بے حد خوشی کی تھی کہ جہاں گزشتہ آٹھ سال سے بین الاقوامی کرکٹ پر پابندی ہے اب وہاں انٹرنیشنل کرکٹرز آکر میچ کھیلیں گے یہ بات دشمنوں کو کیسے چین سے بیٹھنے دی سکتی تھی کی پاکستان میں دوبارہ کرکٹ کی رونقیں بحال ہونے والی ہیں یہاں کے میدان کرکٹ سے آباد ہونے والے ہیں دشمن تاک میں لگا ہوا تھا کہ کچھ بھی کر کے اس لیگ کو اور پاکستان کو پہنچا یا جائے کیوںکہ کرکٹرز کا پاکستان آکر کھیلنا اس بات کی ضمانت ہوتا کہ پاکستان کرکٹ کے لئے ایک محفوظ ملک بن چکا ہے پی ۔ایس ۔ایل پاکستان سمیت دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کو اپنی رونقوں میں ہوا تھا تو اچانک13 فروری کی کو پاکستان کے دل لاہور کو خون سے نہلا دیا گیا پنجاب اسمبلی کے قریب دوا سازوں کی جانب سے جاری دھرنے میں ایک زور دار دھماکہ ہوا جس میں دو سرکاری افسروں سمیت دس افراد شہید اور پچاس سے افراد اس دھماکہ کے نتیجہ میں زخمی ہوئے دھماکہ کا دکھ تو ابھی پاکستانیوں کے دلوں میں چب ہی رہا تھا کہ اچانک یہ خبر بھی آگئ کہ دھماکہ کی وجہ سے جن انٹرنیشنل کر کٹرز نے پاکستان آکر کھیلنے کی رضامندی ضا ہر کی تھی وہ اب یہاں آ کر کھیلنے کا منع کر چکے ہیں پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ دروازہ سے وآپس چلا گیا دشمن پی ۔ایس ۔ایل کو پاکستان کے میدانوں سے ایک بار پھر دور لے گیا ہمارے کھلاڑیوں کو اسپاٹ فکسنگ میں پھنسا گیا اور ساتھ ساتھ ہمارے شہریوں کو خون میں بھی نہلا گیا اور ہم صرف مذمت۔شدید مذمت اور شدید تر مذمت و اجلاسوو احتجاج کے علاوہ اپنے دشمن کا اب تک کچھ بھی نہیں کر سکے مگر ہمیں امید ہے پاکستان کرکٹ بورڈ و حکومت پاکستان کی کوششوں سے انشاء الله بہت جلد بین الاقوامی کرکٹ پاکستان میں ضرور آئے گی ہمارے میدان بھی کرکٹ کے بین الاقوامی مقابلوں سے ضرور سجیں گے ہم دنیا کو اپنے عمل سے دکھا ئیں گے کہ ہم جو ٹھان لیتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں اور ہم اپنے میدانوں کو بین الاقوامی کرکٹ مقابلوں کی زینت ضرور بنائیں گے.........!
No comments:
Post a Comment