محمدبلال حسین صدیقی
2k14/MC/57
BS.FINAL
دنیائے کرکٹ اور ہماری قومی ٹیم
دنیائے کرکٹ میں جہاں اب ٹیمیں کامیابیوں کی نئی منازل طے کررہیں ہیں وہیں پاکستان کرکٹ ٹیم آج بھی وہیں کھڑی ہے جہاں آج سے قبل 20سال کھڑی تھیں عالمی کپ 2007کی شکست سے لے کر حالیہ دورہ آسٹریلہ تک پاکستان ٹیم کی بیٹنگ آرڈر مسلسل ناکامی کا شکار رہا اور اس دس سال کے عرصے میں پاکستان کرکٹ ٹیم پر کئی دور بم بن کر برسے جیسے 2008میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں کا حملہ اور 2010میں اسپٹ فکسنگ کیس نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی بچی کچی عزت کو بھی پار لگا دیایہ ہی نہیں بلکہ پاکستان کی ان دس سالوں کی پرفارمنس اٹھا کر دیکھی جائے توون ڈے اور ٹیسٹ میں ناکامی پاکستان کا مقدر بنی ۔اس دوران پاکستان نے ٹیسٹ کی 30اور ون ڈے کی58سریزکھیلی جس میں سے پاکستان ٹیسٹ کی 10اور ون ڈے کی 25سریز اپنے نام کی اگر کامیابی کا تناسب دیکھا جائے توصرف 39فیصد رہا جوکہ ایک حیران بات ہے ایک اس ٹیم کے لئے جو آئی سی سی کے دو عالمی کپ اپنے نام کر چکی ہے
پاکستان ٹیم کی ناقص کارکردگی کا اندازہ تو بس اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف ون ڈے کرکٹ تاریخ کا سب سے بڑا مجموعی اسکور بنا ڈالااس کے علاوہ جو پاکستانی ٹیم ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ون پر آئی تھی وہ صرف چند دنوں میں ہی چھٹی پوزیشن پر آگئی اور ون ڈے میں تو پہلے ہی ہماری رینکنگ آٹھویں نمبر پر ہے یہ سب حال دیکھ کر بھی چیئر مین پی سی بی شہریار خان کے فیصلوں میں زرا بدلاؤ نہ آیا اورنہ ہی چیمپیئن ٹرافی2017 کے لئے کوئی خاص تیاری کی
ان حالات کی ذمہ داری کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں خواہ وہ کپتان ہو یا چیئر مین ہرکوئی اس کی ذمہ داری ایک دوسر ے کے سر ڈال رہا ہے اور ہمارا نظامِ کرکٹ سیاسی سفیروں کی گرفت میں آکر کمزور سے کمزور ہوتا جا رہا ہے ان سیاسی سفیروں کی بناء پر اُن کھلاڑیوں کو ٹیم کا حصہ بنایا جارہا ہے جو اس کے حق دار نہیں اور جو حق دار ہیں وہ ڈومیسٹک میچز میں پرفارم کر کہ بھی سلیکشن کمیٹی کے منتظر ہیں افسوس کے ساتھ چیئرمین شہریار خان پی۔سی۔بی کسی کی میراث نہیں جو جس کا دل چاہے اپنے مقاصد اور مفادات کے لئے استعمال کرے۔چیئرمین شہریار خان اگرچہ پرچی پر ہی کھلاڑیوں کو ٹیم کاحصہ بناناہے تو ڈومیسٹک کرکٹ کو ختم کر دیا جائے تاکہ ہماری عوام قومی کھیل ہاکی کی طرح کرکٹ کو بھی ماضی کا حصہ بنا کر بھول جائیں