Sunday, 19 March 2017


مسائل کے انبار
محمد بلال حسین صدیقی
2k14/MC/57

جب سے پاکستان وجود میں آیا تب سے اب تک حکمران ووٹ طلب کرنے کے چکر میں عوام کو نعروں کے بیچ گھوما رہے ہیں کیونکہ یہ ہمارے حکمرانوں کی پالیسی رہی ہے کہ جو کام کر سکتے ہو اس کی ہامی بھرو اور جو نہیں کرنا اس کی ہامی کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے دعوے بھی کرو۔تاریخ گواہ ہے حکمران خواہ کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو اقتدار میں آ کر عوام کے لئے کچھ نہیں کیا۔

ایسا ممکن نہیں کہ جہاں آبادی ہو وہاں مسائل نہ ہوں لیکن ان مسائل کو حل کرنا ہمارے حکمرانوں کا فرض ہے ایسے ہی مسائل حیدرآباد کے علا قے لطیف آباد ہونٹ نمبر ۵ میں بھی موجود ہیں جو حل ہونے کے لئے حکمرانوں کے منتظر ہیں ۔علاقے میں موجود سبزی مارکیٹ آئے دن سیوریج کا پانی سڑک پر جما ہونے کے باعث کسی ند ی کا منظر پیش کر تی ہے ۔ایک رہائشی علاقے میں یہ کمرشل تعمیر ناقابلِ قبول ہے ۔جس کے باوجود یہ مارکیٹ گذشتہ 20 سالوں سے قائم ودائم ہے اور اس کی روک تھام کے لئے بلدیا کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہاں مگر پریشان کرنے کے لئے کبھی کسی دکان کبھی کسی ٹھلیے والے سے بھتہ زرور وصول کیا۔اس مارکیٹ کے باعث جہاں لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء کی خرید وفروخت میں آسانی ہوئی ہے وہیں آئے دن اس مارکیٹ میں موجود گندا پانی اور کچراو غلازت کے باعث پریشانیوں کا بھی شکار ہوئے ہیں ۔کچھ مہینوں قبل بلدیا کی جانب سے اس مارکیٹ کی انکروچمنٹ کروائی گئی اور افسران نے اس مارکیٹ کو یہاں سے کسی دوسری مناسب جگہ منتقل کرنے کا دعواہ بھی کرامگر نہ تو اس انکروچمنٹ کا اس مارکیٹ پر کوئی خاص اثر ہوا اور نہ یہ مارکیٹ اپنی جگہ سے کسی دوسری جگہ منتقل ہو پائی اور یوں یہ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

اس کے علاوہ اگر دیکھا جائے تو علاقے کا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ علاقے کے بیچ و بیچ موجود سمنٹ بجری اور تعمیر میں استعمال شدہ دیگر اشیاء کی فروخت کی دکانوں کے باعث سڑک کنارے ریت ، بجری اور اینٹوں کے ڈھیر جما رہتے ہیں اور یہ ڈھیر دیکھتے ہی دیکھتے سڑک کے کنارے سے سڑک پر آجاتے ہیں جس کے باعث دھول مٹی علاقے میں آئے دن اڑتی رہتی ہے اور ٹریفک کی آمدو رفت میں مشکلات کا سامنا پیش کرنا پڑتا ہے اکثر اوقات اس بجری کے باعث گاڑیاں حادثے کا شکار بھی ہوجاتے ہیں ۔اس دھول مٹی کی وجہ سے نہ صرف صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ یہ مٹی آس پاس کے علاقے میں موجود کھانے پینے کی فروخت کی اشیاء کو بھی مضرِ صحت بنادیتی ہے اس سب کے باوجود ان دکانوں نے اپنی دکان سے 50سے80فٹ زائد جگہ پر قبضہ بھی کیا ہوا ہے مگر کوئی پو چھنے والا نہیں۔ان دکانوں پر بڑے بڑے ٹرالے اور ٹرک سامان پہچانے آتے ہیں جن کی عموماً دن میں شہر میں داخلے پر پابندی ہے مگر یہ ٹرک کھولے عام شہر میں داخل ہوتے ہیں اور سامان پہنچا کر واپس لوٹ جاتے ہیں نہ تو انہیں کوئی ٹریفک پولس والا پکڑتا ہے اور نہ ہی کسی چلان کا سامنا کرنا پڑتا ہے

کہا جاتا ہے کہ جن علاقوں کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں کے اسپتال ویران ہوتے ہیں لیکن لطیف آباد نمبر ۵ میں موجود محبوب گراونڈ حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے یہ گروانڈ کسی باڑے کا منظر پیش کرتا ہے جس کے باعث علاقے میں موجود بچوں کو سڑک پر کھیلنا پڑتا ہے ۔اس گروانڈ کا گذشتہ سال بجٹ پاس کیا جو کہ سیاست کی نظر ہوگیا اور اس گروانڈ کی حالت میں کوئی فرق نہیں آیا۔

ان مسائل کا حل ہمارا بنیادی حق ہے جو کہ کئی سالوں سے حکومت کے منتظر ہیں ان مسائل کا حل صرف بلدیاکے ہاتھ میں جو کہ اپنے زاتی فوائد کے لئے اپنے عہدوں کا استعمال کرتے ہیں حکمران ووٹوں کی طلب کے چکر میں ہمیشہ انہی حقوق کو پورا کرنے کا عزم کرتے ہیں اور ہمیشہ نا کام رہتے ہیں ۔ان باتوں اور حالات سے اب صاف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اربابِ اقتدار کو کرسی بچانے اور حسبِ اقتدار کو کرسی چھینے کے منسوبوں سے فرصت نہیں عوام کے مسائل سب سیاست کی نظر کردیے جاتے ہیں اور شکایت گزار کو بڑے بڑے دعوے بھر کر گھر لوٹا دیا جاتا ہے تاکہ وہ سکون کی سانس بھر کر لوگوں میں کہہ سکے کہ فلاح سیاست دان نے میر ے مسئلے کو ختم کرنے کی ہامی بھری ہے۔

Sunday, 5 March 2017


دوستوں کے ساتھ سفر
محمد بلال حسین صدیقی
2k14/MC/57






سیمسٹر سے فارغ ہوئے تو دوستوں کے ساتھ گھومنے جانے ارادہ کیا گرمیاں اپنے جوبن پر تھیں اور دن بھی بہت تیزی سے گزر رہے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ماہ کی چھٹیاں گزر چکی تھیں روزانہ دوستوں سے ذد بحث ہوتی تھی کہ کہیں گھومنے چلیں مگر کسی دوست کے گھر کا ،کسی کے ساتھ پیسوں کا مسئلہ اور کوئی انٹرنشپ کرنے میں مصروف تھا اور مجھے ایسا لگ رہا تھاکہ اس بار بھی چھٹیاں گھر بیٹھ کر گزر جائیں گی اور ہم کہیں نہیں جا پائیں گے۔ایک شام سب دوستوں سے رابطہ کیا اور سب کو اپنے گھر بلا یااور سب کو اس بات پر متفق کرنے کی کوشش کی کہ ہم کہیں گھومنے چلتے ہیں ۔تمام دوستوں کے مسئلہ مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے قریب ہی کسی شہر جانے کا ارادہ کیا۔ تو گھومنے کے لئے سے سب سے اچھا اور قریب شہر کراچی ہی تھا اور تمام دوست اس بات پر آسانی سے متفق بھی ہو گئے تھے کہ ہاں کل صبح کراچی نکلتے ہیں۔۔۔۔۔۔! 

سب دوست ایک ساتھ پہلی بار گھومنے جا رہے تھے تو بہت بے تاب تھے صبح 8 بجے میرے گھر جمع ہونے کا فیصلہ ہوا تھا مگر یہ پہلی بار تھا کہ سب وقت سے پہلے ہی جمع ہو گئے جس گاڑی والے سے کراچی چھوڑ کر آنے کی بات کی ہوئی تھی البتہ اس ضرور دیر کر دی تھی اور ہم ایک کے بعد ایک اسے فون پہ فون کر رہے تھے کافی دیر انتظار کے بعد گاڑی والا اللہ اللہ کر کے آ ہی گیا اور ہم جھٹ پٹ گاڑی میں سوار ہو گئے ابھی گاڑی کو چلے کچھ ہی لمحات گزرے تھے کہ گاڑی والے نے سی۔این۔جی کی قطار میں لے جاکرکھڑا کر دیا ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کے بعد نمبر آیا اور گھڑی پر نگاہ گئی تو دس بج چکے تھے اور ہم اپنے مقررہ وقت سے تین گھنٹے لیٹ ہو چکے تھے۔۔۔۔۔!
دیر ہو جانے کی وجہ سے سب کے مزاج میں بھی موسم والی گرمی آچکی تھی لیکن کچھ دیر گاڑی میں خاموش بیٹھنے کے بعد میں نے گاڑی میں ہنسی مزاق کا ماحول کا بنا دیا اور مزاج میں پیدا ہوئی گرمی ختم کردی کیوں کہ گھر سے بغیر ناشتے کے نکلے تھے اور سب بھوک سے نڈھال تھے اور ڈرائیور پر بہت غصہ بھی تھے تو ہم نے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کیا راستے میں جگہ جگہ رک کر سیلفیاں بنائیں ایک دوسرے سے مستی مزاق کیا اور پھر کراچی کے ٹول پلازہ پر نگاہ پڑی تو کراچی ہمارے سامنے تھا۔۔۔۔۔!