Sunday, 5 March 2017


دوستوں کے ساتھ سفر
محمد بلال حسین صدیقی
2k14/MC/57






سیمسٹر سے فارغ ہوئے تو دوستوں کے ساتھ گھومنے جانے ارادہ کیا گرمیاں اپنے جوبن پر تھیں اور دن بھی بہت تیزی سے گزر رہے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ماہ کی چھٹیاں گزر چکی تھیں روزانہ دوستوں سے ذد بحث ہوتی تھی کہ کہیں گھومنے چلیں مگر کسی دوست کے گھر کا ،کسی کے ساتھ پیسوں کا مسئلہ اور کوئی انٹرنشپ کرنے میں مصروف تھا اور مجھے ایسا لگ رہا تھاکہ اس بار بھی چھٹیاں گھر بیٹھ کر گزر جائیں گی اور ہم کہیں نہیں جا پائیں گے۔ایک شام سب دوستوں سے رابطہ کیا اور سب کو اپنے گھر بلا یااور سب کو اس بات پر متفق کرنے کی کوشش کی کہ ہم کہیں گھومنے چلتے ہیں ۔تمام دوستوں کے مسئلہ مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے قریب ہی کسی شہر جانے کا ارادہ کیا۔ تو گھومنے کے لئے سے سب سے اچھا اور قریب شہر کراچی ہی تھا اور تمام دوست اس بات پر آسانی سے متفق بھی ہو گئے تھے کہ ہاں کل صبح کراچی نکلتے ہیں۔۔۔۔۔۔! 

سب دوست ایک ساتھ پہلی بار گھومنے جا رہے تھے تو بہت بے تاب تھے صبح 8 بجے میرے گھر جمع ہونے کا فیصلہ ہوا تھا مگر یہ پہلی بار تھا کہ سب وقت سے پہلے ہی جمع ہو گئے جس گاڑی والے سے کراچی چھوڑ کر آنے کی بات کی ہوئی تھی البتہ اس ضرور دیر کر دی تھی اور ہم ایک کے بعد ایک اسے فون پہ فون کر رہے تھے کافی دیر انتظار کے بعد گاڑی والا اللہ اللہ کر کے آ ہی گیا اور ہم جھٹ پٹ گاڑی میں سوار ہو گئے ابھی گاڑی کو چلے کچھ ہی لمحات گزرے تھے کہ گاڑی والے نے سی۔این۔جی کی قطار میں لے جاکرکھڑا کر دیا ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کے بعد نمبر آیا اور گھڑی پر نگاہ گئی تو دس بج چکے تھے اور ہم اپنے مقررہ وقت سے تین گھنٹے لیٹ ہو چکے تھے۔۔۔۔۔!
دیر ہو جانے کی وجہ سے سب کے مزاج میں بھی موسم والی گرمی آچکی تھی لیکن کچھ دیر گاڑی میں خاموش بیٹھنے کے بعد میں نے گاڑی میں ہنسی مزاق کا ماحول کا بنا دیا اور مزاج میں پیدا ہوئی گرمی ختم کردی کیوں کہ گھر سے بغیر ناشتے کے نکلے تھے اور سب بھوک سے نڈھال تھے اور ڈرائیور پر بہت غصہ بھی تھے تو ہم نے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کیا راستے میں جگہ جگہ رک کر سیلفیاں بنائیں ایک دوسرے سے مستی مزاق کیا اور پھر کراچی کے ٹول پلازہ پر نگاہ پڑی تو کراچی ہمارے سامنے تھا۔۔۔۔۔!

1 comment: