Wednesday, 15 February 2017


محمد سعود شیخ
2k14/MC/63

پاکستان کرکٹ سے پی ایس ایل تک

ایک وقت تھا جب ہماری کرکٹ عروج پر تھی اور ہر جگہ اور ہر گلی اور سات سمندر پار تک ہماری کرکٹ
کے اور ہمارے کرکٹرز کے عاشق موجود تھے اور کرکٹ ہمارے ملک کے لوگوں کی دل کی دھڑکن تھی لیکن اسے ایسی بری نظر لگی کہ ہم ہر میدان میں رسوا ہو کر رہ گئے ا ور ایسا ہو ا جیسے ناکامی ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی ہو ۔
جیت تو جیسے عید کا چاند ہوگئی اور اس جیت کو دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئیں اور ایک وقت تو ایسا آیا جب ہم زمبابوے سے بھی میچ جیتنے کی دعائیں مانگنے لگے۔آئی سی سی ولڈ کپ گیا،ایشیاء کپ گیا،آئی سی سی ورلڈ ٹی 20بھی گیا ۔ ہم پھر بھی نعرے لگاتے رہے ’تم جیتو یا ہارو ۔۔۔ ہمیں تم سے پیار ہے‘ لیکن یہ ہمارا دل جانتا ہے کہ کتنی ہمت کر کے ہم نے یہ نعرہ لگا یا ورنہ ارادے تو ہمارے مرحوم ہٹلر والے تھے ۔
اگر دیکھا جائے تو کھیلوں میں سب سے زیادہ بجٹ کرکٹ کے لئے مختص کیا جاتا ہے اور ہمارے ملک میں یہ وہ واحد کھیل ہے جس میں ہم کسی قدر آگے تھے لیکن اب تو باقی کھیلوں کی طرح ہماری کرکٹ بھی انٹر نیشنل لیول پر ختم ہوتی جا رہی ہے ۔ہمارے اسٹیڈیم تو پہلے ہی ویران تھے اب بس پی ایس ایل کا سہارا ہے۔ ویسے اگر دیکھا جائے پا کستان میں کرکٹ کے فروغ کے لئے یہ ایک اچھا اقدا م ہے اور اس طرح نئے کھلاڑی نکل کر سامنے آسکتے تھے لیکن ایسانہ ہوا۔
پی ایس ایل میں بھی ہمارے کھلا ڑیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا ۔پی ایس ایل ہے تو پاکستان کی لیگ مگر فوقیت غیر ملکی کھلاڑیوں کو دی گئی۔اس بارے میں ٹیم مالکان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت سے پی ایس ایل کامیاب رہے گی۔ اس کے برعکس انڈین پر یمیئر لیگ کو دیکھا جائے تو وہاں ہر سال نیا ٹیلنٹ دیکھنے کو ملتا ہے جس نے انڈیا کی قومی ٹیم کو مضبوط سے مضبوط تر کر دیا ہے ۔لیکنیہاں ٹیلنٹ نہیں ناموں کو فوقیت دی جا رہی ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان سپر لیگ میں چند نئے کھلا ڑیوں کو موقع دیا گیا اور انھوں نے اپنی صلا حتوں کے جو ہر دکھائے لیکن یہ کافی نہیں اگر کچھ اور کھلا ڑیوں کو موقع دیا جاتا تو نیا ٹیلنٹ سامنے آسکتا تھا لیکن ایسا نہ ہو سکا اس کی وجہ کچھ لوگ پی سی بی میں موجود اقربا پروری اور سفارش کو قرار دیتے ہیں لیکن جو بھی ہو پی ایس ایل کا ہونا پاکستا ن کے مفا د میں ہے اور اس طرح ہم اپنی کرکٹ کو ایک بار پھر دنیا بھر میں منواسکتے ہیں اور غیر ملکی ٹیموں کی مہمان نوازی کر کے ایک بار پھر اپنے میدا نوں کو تما شائیوں کی آوازوں سے گونجتا ہو ا سن سکتے ہیں ۔

No comments:

Post a Comment